کھیل کے میدان پر نظر

اچھے کھلاڑی کا مقابلہ اپنے آپ سے ہوتا ہے، نیلم ریاض

کھیل کے دوران زخمی ہونا معمول کی بات ہے اور سائیکلنگ میں تو کچھ زیادہ ہی چوٹیں لگتی ہیں مگر نیشنل گیمز سے چند دن پہلے نیلم ریاض کو لگنے والی چوٹ اتنی شدید تھی کہ ان کے سر پر کئی ٹانکے لگے۔ کوچ نے مایوس ہوکر گھر میں مکمل آرام کرنے کا کہہ دیا۔

نیلم صرف ایک دن گھر پر رہیں اور دوسرے دن ٹریننگ کے لیے آ کر سب کو حیران کر دیا۔ انہوں نے سائیکلنگ کے مجموعی طور پر نو ایونٹس میں سے سات میں گولڈ میڈل حاصل کیے۔ اسی جنون اور جذبے کی بدولت نیلم ریاض ایک کے بعد دوسرے کھیل میں کامیابی حاصل کرتی رہیں۔ ابھی تک انہیں سات کھیلوں میں نیشنل چمپئین بننے کا اعزاز حاصل ہے، ان کھیلوں میں سائیکلنگ، جمناسٹک، کراٹے، ووشو، کبڈی، ویٹ لفٹنگ اور پاور لفٹنگ شامل ہیں۔

خواتین کی کبڈی کے پہلے دو ورلڈکپ مقابلوں میں وہ پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ 63 کلوگرام کیٹیگری میں 144 کلوگرام وزن اٹھا کر قومی ریکارڈ قائم والی نیلم ریاض نے ویٹ لفٹنگ کے عالمی مقابلوں میں خواتین کی طرف سے پہلی دفعہ پاکستان کی نمائندگی کی۔ وہ پاکستان واپڈا کی طرف سے ویٹ لفٹنگ اور پاور لفٹنگ کے مقابلوں میں حصہ لیتی ہیں۔

نیلم ریاض نے لاہور کے علاقے شاد باغ میں ریاض احمد رانا کے ہاں آنکھ کھولی۔ والد کا تعلق محکمہ پولیس سے ہے۔ چھ بہنوں اور تین بھائیوں میں ان کا نمبر ساتواں ہے، ایک بھائی اور بہن ان سے چھوٹے ہیں۔ بچپن سے ہی کھیلوں کا بہت شوق تھا۔ سکول میں جمناسٹک، سائیکلنگ اور دوسرے مقابلوں میں پیش پیش رہتیں۔ پہلی مرتبہ سائیکلنگ کے انٹرسکول مقابلوں میں حصہ لینے اسٹیڈیم گئیں، جہاں اول پوزیشن حاصل کرنے کے ساتھ انہوں نے کم ترین وقت کا ریکارڈ بھی بنایا۔ انٹربورڈ مقابلے کے لیے انتخاب ہوا تو اس میں بھی ان کا وقت سب سے کم تھا۔

بہترین کارکردگی پر پاکستان آرمی نے اپنی ٹیم میںشمولیت کی دعوت دی، جسے انہوں نے فوراً قبول کر لیا۔ اتنی جلدی کسی قومی ادارے کی نمائندگی کا موقع ملنے کی وجہ سے ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ پاکستان آرمی کی طرف سے وہ سائیکلنگ کی ٹریننگ کرتی رہیں۔ جب پہلی مرتبہ شہر سے باہر مقابلے میں حصہ لینے کے لیے جانا تھا تو والدین اجازت نہیں دے رہے تھے، جس پر آرمی کی ایک ٹیم ان کے گھر اجازت لینے گئی۔ گھر والوں نے اجازت دے دی اور وہ سلور میڈل جیت کر لائیں۔ اس کامیابی کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

کیریئر کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں وہ بتاتی ہیں، ’’لڑکیوں کے لیے گھر سے باہر جانا ہی عام بات نہیں ہے، پھر پروفیشنل کھلاڑی کے طور پر مختلف کھیلوں میں حصہ لینا تو بڑی بات ہے۔ آپ کو رشتہ داروں سے طرح طرح کی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ کے والدین آپ کا ساتھ دیں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میرے والدین نے میرا مکمل ساتھ دیا۔ انہوں نے اعتراض کرنے والے لوگوں کو کہا کہ وہ ہماری بیٹی ہے اور ہمیں اپنی تربیت پربھروسہ ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے اپنے ملک اور اپنے خاندان کا نام روشن کیا ہے۔

پہلے جو لوگ باتیں کرتے تھے، اب وہ بھی میری کامیابیوں کا ذکر فخر سے کرتے ہیں۔‘‘ نیلم ریاض نے گورنمنٹ پاک سٹنیڈرز ہائی اسکول شاد باغ سے 2010ء میں میٹرک اور لاہور کالج برائے خواتین سے 2012ء میں ایف اے کیا۔ کالج میں بھی کھیلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ دو سال بہترین سائیکلسٹ اور جمناسٹک کھلاڑی قرار پائیں۔ دوسرے کھیلوں میں بھی اپنے شوق سے حصہ لیا اور کامیابیاں سمیٹیں۔ انہوں نے اوپن یونیورسٹی کی طرف سے گریجویشن کا امتحان پاس کیا اور اب ایم ایس سی سپورٹس سائنسز کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ بتاتی ہیں، ’’امی نے کہا تھا کہ کھیلوں میں حصہ لینا ہے توپڑھائی بھی ساتھ کرنا ہو گی۔ اس لیے میں نے اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا ہوا ہے، خود کو اوسط طالب علم سمجھتی ہوں۔‘‘

کبڈی کھیلنے کا ان کا تجربہ بھی خاصا دلچسپ رہا۔ جب پاکستان نے خواتین کے کبڈی ورلڈکپ کے لیے پہلی ٹیم بھیجی تو اس میں کوئی بھی لڑکی کبڈی کی نہیں تھی۔ مختلف کھیلوں سے لڑکیوں کو اکٹھا کیا گیا اور انہیں پندرہ دن کبڈی کی تربیت دے کر یوں کبڈی کی ٹیم تشکیل دی گئی۔ کہتی ہیں، ’’جب ہم پہلی مرتبہ ورلڈکپ کھیلنے گئیں تو زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ پاکستان کلر مل گیا تھا اور ہم پاکستان کی نمائندگی کرنے جا رہے تھے۔ پھر سوچا کہ ملک کی بات ہے، ہماری کارکردگی بھی بہترین ہونی چاہیے۔ ادھر ہم نے چوتھی پوزیشن حاصل کی، کسی کو یقین ہی نہیں آ رہاتھا کہ ہم پہلی مرتبہ کبڈی کا مقابلہ کھیل رہی ہیں۔ پھر 2014ء میں دوسرے ورلڈکپ میں ہم نے سخت مقابلے کے بعد برونز میڈل جیت کر پاکستان کا پرچم بلند کیا۔‘‘ وہ کبڈی کے اگلے ورلڈکپ میں بھی شرکت کرنا چاہتی ہیں تاکہ اپنی محنت سے پاکستان کو گولڈ میڈل جتوانے میں کردار ادا کر سکیں۔

اپنی کامیابیوں کا راز وہ اپنے جنون اور محنت کو قرار دیتی ہیں۔ کہتی ہیں، ’’جب تک انسان کی محنت نہ ہو، اسے اس کا پھل نہیں ملتا۔ ایک کھلاڑی ہونے کی حیثیت سے ہمارا مقابلہ خود سے ہوتا ہے۔ ہم نے یہ ٹارگٹ نہیں رکھا ہوتا کہ ہم نے فلاں کے ساتھ فائٹ کرنی ہے، ہم نے خود کے ساتھ بھی فائٹ کرنی ہوتی ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جو پہلے ریکارڈ بنایا تھا اس سے اب بہتر کیا جائے۔ میں کسی کے ساتھ مقابلہ نہیں کرتی، میرا اپنے ساتھ مقابلہ ہوتا ہے۔‘‘ اب بھی وہ آئندہ مقابلوں میں اپنا ریکارڈ بہتر کرنا چاہتی ہیں، جس کے لیے وہ معروف ٹرینر رشید ملک کے زیر نگرانی بہت محنت کر رہی ہیں۔ سیف گیمز میں پاکستان کے لیے میڈل جیتنا بھی ان کا خواب ہے۔

نیلم ریاض سمجھتی ہیں کہ انٹرنیشنل مقابلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں پر ان کے ممالک بہت محنت کرتے ہیں۔ ان کے باقاعدگی سے مقابلے ہوتے ہیں۔ ٹریننگ کے لیے دوسرے ملکوں میں بھیجا جاتا ہے۔ ’’ہمارے ہاں سہولیات کے حوالے سے بہت فرق ہے، انٹرنیشنل کورسز کیے ہوئے کوچز کم ہیں، جس کی وجہ سے کھلاڑی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ہماری خواتین ٹیم کو بنے ہوئے کم عرصہ ہوا ہے۔ انتظامیہ کے لوگ پوری توجہ دے رہے ہیں، اس لیے مستقبل میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ ہمارے وزیراعظم بھی کھلاڑی رہ چکے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ دوسرے کھلاڑیوں کے جذبات کو سمجھتے ہوئے انہیں بہتر سہولیات اور مواقع دیں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔ جب نوجوانوں کا رجحان کھیلوں کی طرف ہو تو وہ برائیوں سے بچ جاتے ہیں اور ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔‘‘وہ ویٹ لفٹنگ اور کبڈی کے انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت کے لیے اب تک مصر اور ہندوستان کا دورہ کر چکی ہیں۔

نیلم ریاض صبح اٹھ کے گھر کے کاموں میں تھوڑا بہت والدہ کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔ دوپہر کو وہ ایک کلب میں خواتین کو فٹنس کے لیے ٹریننگ کراتی ہیں۔ اس کے بعد ان کی اپنی ٹریننگ شروع ہوتی ہے، جو ساڑھے تین چار گھنٹے جاری رہتی ہے۔ بتاتی ہیں، ’’ویٹ لفٹنگ کی ٹریننگ کافی سخت ہوتی ہے۔ غذا کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں ہم بہت زیادہ کھاتے ہوں گے، ایسی بات نہیں، ہم کم لیکن صحت بخش غذائیں کھاتے ہیں، جن سے ہمیں طاقت ملتی ہے۔ فاسٹ فوڈ سے ہمیں بالکل منع کیا جاتا ہے۔ فاسٹ فوڈ ویسے بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور مجھے یہ کھانے کا شوق بھی نہیں۔ ہماری توجہ صرف اپنے کھیل پر ہوتی ہے۔ ہم لوگ اپنا یا کسی عزیز کا فنکشن تو چھوڑ دیتے ہیں، لیکن ٹریننگ نہیں چھوڑتے۔‘‘ ان کا نکاح ایڈوکیٹ ملک عرفان سے ہو چکا ہے۔ ان کے شوہر ان کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔ ویٹ لفٹنگ کے قومی مقابلے سے دو دن پہلے ان کی شادی طے ہے لیکن انہوں نے اپنی توجہ کھیل پر ہی رکھی ہوئی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ بارات والے دن بھی صبح کے وقت ٹریننگ کے لیے جاؤں گی۔

گھر میں ان کی الماری بے شمار میڈلز، شیلڈز اور سرٹیفیکیٹس سے سجی ہوئی ہے۔ان کے پاس پیسے ہوں تو پسند کی چیز فوراً خرید لیتی ہیں، ورنہ گھر والوں پر بوجھ ڈالنا پسند نہیں کرتیں۔ وہ روزمرہ مصروفیات کے لیے اپنی سکوٹی پر باہر آتی جاتی ہیں۔ پنجابی فلمیں شوق سے دیکھتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ لڑکیاں کھیلوں کی طرف آئیں اور ملک کانام روشن کریں۔اس مقصد کے لیے سب کو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

لاتیں ٹوٹنے کا خوف

جب ہم کبڈی کا دوسرا ورلڈکپ کھیلنے گئے تو وہاں سب نے امیدیں چھوڑ دی تھیں کہ ہمارا کوئی میڈل نہیں آنا کیونکہ ہمارا مقابلہ نیوزی لینڈ کے ساتھ تھا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کچھ زیادہ ہی مضبوط تھی، وہ رگبی کی کھلاڑی تھیں، رگبی اور کبڈی ان دونوں کھیلوں میں زیادہ ڈاجنگ اور طاقت کا کام ہوتا ہے۔ ہم سے پہلے نیوزی لینڈ کا میچ ڈنمارک کے ساتھ ہوا تھا اور ان کی دو لڑکیوں کی ٹانگیں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے توڑ دی تھیں۔ اس وجہ سے ہماری ٹیم بہت زیادہ پریشر میں آ گئی تھی، لڑکیاں ایک دوسرے کو چھیڑتی تھیں کہ اب تمھاری ٹانگ ٹوٹنی ہے۔ تو اس وجہ سے سارے بہت زیادہ کنفیوز تھے کہ اب کیا ہو گا۔

ہمارے کوچ اور منیجر نے ہمیں بہت حوصلہ دیا اور ہماری تعریف کی کہ آپ لوگ بھی جیت سکتے ہیں، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ پاکستان کے لیے کھیل رہے ہیں، سب کچھ بھول جائیں، بس یہ دیکھیں کہ پاکستان کے لیے کچھ کرنا ہے۔ جو مرضی ہو جائے لڑمڑ کے میدان سے نکلنا ہے، وہ وقت کبھی بھی ہم لوگوں کو نہیں بھولتا۔ وہ میچ کافی یادگار رہا۔ اس کے بعد انگلینڈ کے ساتھ برونز میڈل کے لیے کھیلے اور جیتے۔ انگلینڈ کی ٹیم کی لڑکیاں رو رہی تھیں۔ ہار سب کو برداشت نہیں ہوتی، تو انہوں نے یہ عجیب و غریب الزام لگایا کہ ہماری ٹیم میں کچھ لڑکے بھی کھیل رہے ہیں، جن کی وجہ سے وہ میچ ہارے۔ ہم نے اس جیت کا بہت جشن منایا۔

انجری: کھلاڑی کا زیور

کھیل میں انجریز ہوتی رہتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لڑکیاں بڑی نازک ہوتی ہیں لیکن ہم نے ثابت کر دکھایا ہے کہ اتنی بھی نازک نہیں ہوتیں۔ جن کھلاڑیوں میں جنون ہو، جنہوں نے کچھ بننا ہو تو ان کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ انجریز سے ہم لوگ سیکھتے ہیں، خود کو پہلے سے بہتر اور مضبوط بناتے ہیں۔ ہم لوگوں کو تو کہا جاتا ہے کہ یہ چوٹیں آپ کا زیور ہیں، ورنہ لڑکیوں کے لیے تو یہ ہوتا ہے کہ فلاں سیٹ پہن لیا، فلاں جیولری پہن لی۔ ان مشکل حالات کی بدولت ہی ہم اچھے کھلاڑی بنتے ہیں۔

Leave a Reply